مشہور حدیث ہے:

 *الصوم جنة من النار* 
روزہ جہنم آگ سے بچانے کے لئے ڈھال ہے۔ 

ایک اور حدیث حضرت علی سے مردی ہے کہ پیغمبر اسلام سے پوچھا گیا کہ ہم کون سا کام کریں جس کی وجہ سے شیطان ہم سے دور رہے ۔ آپ نے فرمایا:

 *الصوم یود وجہہ و الصدقہ تکسر ظہرہ و الحب فی اللہ و المواظبة علی العمل الصالح یقطع دابرہ و الاستغفار یقطع و تینہ* 

روزہ شیطان کا منہ کالا کردیتاہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ خدا کے لئے محبت اور دوستی نیز عمل صالح کی پابندی سے اس کی دم کٹ جاتی ہے اور استغفار سے اس کی رگ دل قطع ہوجاتی ہے۔

نہج البلاغہ میں عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین روزے کے بارے میں فرماتے ہیں:
 *و الصیام ابتلاء لا خلاص الخلق* 
اللہ تعالی نے روزے کو شریعت میں اس لئے شامل کیاتا کہ لوگوں میں روح اخلاص کی پرورش ہو۔

 *۱) بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۵* 
 *۲) نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲*

Sirateaimamasoomin.blogfa.com
Call:+989150693306
Call:+989307831247



تاريخ : یکشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۰۱ | 1:7 AM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

ڪعبہ کان مسجد تائین
ولات کان شھادت تائین
تحرير:ذيشان علي حيدري
نالو ء نسب: حضرت علی علیہ السلام بن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدمناف بن قضی بن کلاب ھاشمی قرشی آھن(۱)
والد: حضرت ابوطالب (ع) ھڪ سخي ء عادل عربن م انتھائی قابل احترام ھئا. ء رسول اللہ جا چاچا ء حامي، مددگار، قريش جي بزرگ شخصيتن منجھان ھئا.(۲)
والدہ: فاطمہ بنت اسدبن ھاشم بن عبدمناف آھن(۳)



ادامه مطلب
تاريخ : یکشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۰۱ | 1:1 AM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

تقلید کیا ہے؟

ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻄﻼﺡ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ۔ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ
ﻓﺮﻭﻋﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﮑﺎﺗﺐ ﻓﺮﻭﻉ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮﺍﺯ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ.



ادامه مطلب
تاريخ : پنجشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۹ | 4:36 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🌺 امام صادق علیہ السلام کے 25 دستورالعمل ﺳﻌﺎﺩﺕ کے متلاشی افراد کیلئے


1👈 طلَبْتُ الْجَنَّةَ فَوَجَدْتُهَا فِي السَّخَاءِ، 
🍀 بہشت کو تلاش کیا تو اسے سخاوت میں پایا.

2👈 وَ طَلَبْتُ الْعَافِيَةَ فَوَجَدْتُهَا فِي الْعُزْلَةِ،
🍀  خیریت کو تلاش کیا تو اسے کنارہ کشی میں پایا.

3👈 و طَلَبْتُ ثِقْلَ الْمِيزَانِ فَوَجَدْتُهُ فِي شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ،
🍀 بروز محشر حساب وکتاب کی سختی کو تلاش کیا تو اسے خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام کی رسالت کی گواہی میں پایا.



ادامه مطلب
تاريخ : پنجشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۹ | 12:48 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علی المھدی الذی وعد اللہ به الامم
  
 غیبت کا فلسفہ 

 امام زمانہ (عج) کی غیبت کی چند حکمتیں ہیں جو کتب میں بیان ہوئی ہیں 

 (۱)اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں سے ایک اسم حکیم ہے تقریبا قرآن مجید میں یہ اسم ۸۰ دفعہ سے زائد آیا ہے مثلا
 ان اللہ عزیز _حکیم_ (بقرہ ۲۷)
وھو _الحکیم_ الخبیر (انعام ۱۸)
واللہ علیم _حکیم_ (انفعال ۷۱)
یا فرشتوں نے جب خدا سے عرض کیا  
قالوا سبحانک لاعلم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم _الحکیم_ (بقرہ ۳۲)



ادامه مطلب
تاريخ : پنجشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۹ | 12:44 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🔹🔹🔹 توکل علی اللہ🔹🔹🔹

راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔

🔵 ارشادِ باری تعالٰی ہے:
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
 جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے



ادامه مطلب
تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۸ | 7:50 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابو عبداللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسن بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شیعوں کے چھٹے امام ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو آنحضرت کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوۓ ۔
امام جعفر صادق (ع) جمعہ طلوع فجر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوۓ ۔



ادامه مطلب
تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۸ | 2:53 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

دعا میں الحاح و زاری 

حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایا:

وَالله لا يُلِحُّ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ عَلَى الله عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ إِلا قَضَاهَا لَهُ.

خدا کی قسم!جب کوئی بندہ مومن خدا کی بارگاہ میں الحاح و زاری کرتا ہے تواللہ اسکی حاجت کو(ضرور)پوراکرتا ہے۔

مشکل یہی ہے کہ ہم لوگ دعا مانگنے کی بجائے پڑھتے ہیں اور دل کہیں اور دماغ کہیں ہوتا ہے
ہم ایک دفعہ مانگ کر چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ دعا قنول تو ہوتی ہی نہیں ہے تو مانگنے سے کیا فائدہ ؟
جب امام علیہ السلام نے فرمایا کہ الحاح و زاری سے کام لوگے تو ہی فائدہ ملنا ہے.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 وسائل الشیعہ:ج7:ص58
📚 الکافی:ج2:ص475
📚 الدعاء حقيقته ، آدابه ، 
📚 آثاره:ص49



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۸ | 2:49 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🔹 تدوین فقہ اور امام صادق (علیہ السلام)🔹

✍🏻 یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس افرا تفری کے عالم میں فقہ اسلامی کو اس اصل روح میں محفوظ رکھنا کس کی ذمہ داری تھی؟ واقعہ کربلا اور اس کے تسلسل میں دربارِ شام میں حضرت سیدہ زینب (سلام اللہ علیھا) کے خطبہ نے ثابت کر دیا کہ حق اور نا حق اور سچائی اور گمراہی میں حد فاصل قائم رکھنے کا فریضہ آئمہ حق نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔ یہ ذمہ داری ان آئمہ نے نہایت حکمت علمی و عملی سے انجام دی۔ اس کی خاموش ابتداء امام زین العابدین (علیہ السلام) نے اپنی دعاؤں سے کی، جن کے ذریعے امت کے افراد کے ذہنوں کی تربیت کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں امام محمد باقر (علیہ السلام) نے مدینے میں اپنی درس گاہ میں باقاعدہ درس کا آغاز کیا جس کی بنیادوں کو امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے استوار کیا۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ آپ کو اپنی 65 سال عمر میں سے تقریباً 12 سال اپنے دادا حضرت علی ابن الحسین (علیہ السلان) کی معیت میں اور پھر 19 سال اپنے والد ماجد کے زیر سایہ گزارنے کا موقع ملا اور پھر خود اپنی امامت کے 34 سال میسر ہوئے

۔ 
✍🏻 دانشگاہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) 
اس دوران بنی امیہ اور بنی عباس کو اپنی لڑائیوں میں مشغولیت نے آل محمد (علیھم السلام) کی طرف توجہ کرنے کا موقع نہیں دیا۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس درس گاہ کو ایک عظیم دانش گاہ کے رتبہ تک پہنچا دیا۔ یہ ایک ایسی دانشگاہ تھی کہ جسکے نصاب کے دستاویز بہت پہلے ہی امام زین العابدین (ع) نے صحیفہ کاملہ کی شکل میں تیار کر دئیے تھے۔ بظاہر یہ دعاؤں کا مجموعہ اپنے اندر حکمت اور دانائی ، احکام خداوندی ، عبد اور معبود کے تعلقات ، حقوق الناس اور تخلیق کائنات جیسے بہت سے عنوانات پر مشتمل تھا جو پڑھنے والوں کو دعوت فکر دیتا ہے۔

محمد ابن یعقوب کلینی نے 16199 احادیث پر مشتمل اصول کافی بطور تدریسی مواد مہیا کیا جس کو من لا یحضر الفقیہ ، تہذیب اور استبصار نے مزید و سعت دی اور اس طرح تقریباً 60 ہزار احادیث پر مشتمل یہ مایہ ناز سرمایہ بنا، جس کی موجودگی میں ہمارے علماء کو قیاس اور رائے پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی تدوین فقہ کی انہی کوشش کی بناء پر فقہ محمدی کو فقہ جعفری سے موسوم کیا گیا، کیونکہ اس کو فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سے ممتاز کیا جا سکے۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب باقی فقہوں کو ریاست کی سرپرستی حاصل تھی فقہ جعفری پُر زور مخالفتوں کا مقابلہ کرتی ہوئی پھیلی اور یوں اپنی ترقی کی راہیں طے کرتی رہی۔ اس کے ارتقاء میں قابل ذکر سنگِ میل علامہ حلی ( ساتویں صدی ) علامہ بہبہانی ( گیارہویں صدی ) شیخ مرتضیٰ (تیرہویں صدی ) اور پھر موجودہ دور میں ایران ، عراق، بیروت اور دمشق کے حوزہ علمیہ نے اس کی آبیاری کا  فریضہ سنبھالا ہوا ہے۔

موجودہ دور میں فقہ جعفری کی اعلیٰ علمی حلقوں میں پذیرائی کی ایک قابل ذکر مثال مصر کی عظیم دانشگاہ جامعہ الازہر کے چانسلر مفتی علامہ شیخ محمود شلتوت کا ایک منصفانہ اور جرات مندانہ قدم ہے۔ تقریباً بیس سال پہلے انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور قوی دلیل کی موجودگی میں ایک مذہب یا فقہ کے ماننے والوں کے لیے دوسرے مذہب کی طرف رجوع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے اور اس بناء پر انہوں نے قانونی طور پر فتویٰ دیا کہ دوسرے مذہب کی طرح شیعہ فقہ پر بھی عمل صحیح ہے۔ ان کا یہ اقدام قدر و منزلت کا متقاضی ہے۔

 *فقہ جعفری* کی برتری کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ دیگر تمام فقہوں کے بانی بالواسطہ یا بلا واسطہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے شاگرد تھے اور اس پر ان کو ناز بھی تھا۔ فقہ جعفری میں دور جدید کی ضروریات کے مطابق اجتھاد کے ذریعے انسانی مسائل کے حل کی تمام صلاحتیں موجود ہیں۔ یہ ایک عادلانہ نظام ہے جو نیکی اور بدی میں تمیز کی راہ بتاتا ہے، جہاں خوشی کے موقعوں پر خوشی کے اظہار کا ڈھنگ اور آلام و مصائب میں تعزیت کے اسلوب بتائے جاتے ہیں۔ جہاں اکابرین کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور عبرت کے نشانات سے دوری سکھائی جاتی ہے یہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں مدد دیتا ہے۔
ــــــــــــــ✍🏻
 سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۸ | 2:48 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🔹 تدوین فقہ جعفری ایک جائزہ :🔹

✍🏻 امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے تذکرے میں ذہن فوری فقہ جعفری کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، کیونکہ تدوین فقہ کی کوشش امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے حوالے کے بغیر نا ممکن سمجھی جاتی ہے۔
مکتب تشیع کی فقہ یعنی فقہ جعفری تو اپنی وجہ تسمیہ ہی سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی مرہون منت اور احسان مندی ظاہر کرتی ہے۔

عربی میں فقہ کے لغوی معنی علم و فہم ہے اور فقیہ کے معنی عالم ہیں لیکن مرور زمانہ کے ساتھ اصطلاحاً اس سے دینی مسائل اور استدلالی علم مراد لیا جاتا ہے۔ جس میں احکام شریعہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ احکام واجب ، مستحب ، حرام ، مکروہ ، اور مباح کے محور کے اطراف اپنے میں سبب، شرط ، مانع ، صحت بطلان، رخصت اور عزیمت کے پہلو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ تمام فقہی اصطلاحات ہیں جن کی تفصیل متعلقہ کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ فقہ کی اس مختصر تشریح کے بعد اب تدوین کا مطلب جمع کرنا یا مرتب کرنا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم تددوین کی نسبت سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپ نے فقہ محمدیہ کے احکام کو جمع اور مرتب کیا کہ وہ ایک مستقل علم بن گیا۔

اسلامی تاریخ میں فقہ کی تدوین کے چند واضح ادوار نظر آتے ہیں ، امام صادق (ع) کی علمی برکات کو سمجھنے کے لیے فقہ اسلامی کے تدریجی ارتقاء کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کا سبب پہلا عہد حضرت ختمی مرتبت کی ظاہری رسالت سے  11ھ تک محیط ہے جس میں سوائے چند استثنائی واقعات ( صلح حدیبیہ ، حدیث قرطاس ) کے بظاہر مسلمانوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ رحلت رسول کائنات (ص) کے فوری بعد سب سے بڑا فقہی اختلاف آنحضرت کی جانشینی کے سلسلہ میں نمودار ہوا اس دور میں جو پہلے تین خلفاء کے زمانہ یعنی تقریباً 24 سال (35 ھ) تک پھیلا ہوا ہے۔ قرآن اور سنت کے علاوہ فقہ کے ماخذ میں قیاس اور اجماع کا اضافہ ہوا اور ساتھ ساتھ ابوبکر اور عمر نے روایت حدیث پر کڑی پابندی لگا دی، جس کی وجہ سے قیاس پر زیادہ انحصار ہوا۔ تیسرا دور 35 ھ تا 40 ھ میں خلافت امیر المؤمنین کے دوران قرآن و سنت ہی ماخذ فقہ رہے اور اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔

اثنائے عشری شیعہ عقیدہ کی رو سے اسلام کی اصل تشریح وہی ہے جو وفات پیغمبر کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) سے لے کر بارہویں امامت تک بلا فصل جاتی ہے۔ بالآخر ہر حکم کا منبع قول معصوم علیھم السلام ہوتا ہے اور جو کچھ راوی کی زبان پر آئے گا وہ عصمت فکر اور معیار صداقت پر پورا اترے گا۔ حضرت امام علی (علیہ السلام) سے امام حسین (علیہ السلام) تک یہ وصل قول انتہائی بھر پور انداز میں عیاں ہے۔

چوتھا دور 60 ھ تا 133 ھ کا ہے، جو بنی امیہ کی خلافت کا زمانہ ہے اس دور میں شہادت امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) ، امام حسن (علیہ السلام) کی ظاہری خلافت سے دستبرداری اور شہادت امام حسین (علیہ السلام)، سانحہ کربلا و مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تاراجی کے واقعات دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ سلاطین بنی امیہ کس فقہ کے پابند تھے۔ جس میں ان باتوں کی انہیں اجازت تھی۔ عمر بن عبد العزیز کے دور میں البتہ فدک واپس کیا گیا لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کس فقہ کے تحت چھینا گیا تھا۔

پانچواں طویل دور  135 ھ سے 260 ھ یعنی 125 سال پر محیط ہے، دور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی امامت کے ابتدائی زمانے سے شہادت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے بعد تک پھیلا ہوا ہے، سیاسی اور فکری اعتبار سے تاریخ اسلام کا یہ نہایت اہم دور تھا اس زمانے میں بے شمار تاریخ ساز واقعات اور تحریکات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں امت مسلمہ بشمول شیعہ فقہی اعتبار سے مختلف مسلکوں میں بٹ گئی ۔ اس دور میں روایت حدیث پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وقتی مصلحتوں اور حاکمان وقت کی سرپرستی کے نتیجے میں وضع حدیث ایک مشغلہ اور پیشہ بن گیا تھا۔ اس دور میں امام جنبل ،امام بخاری ،امام مسلم ، ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی کی مسانید کی تدوین ہوئی اب وہ صحابہ اور تابعین بھی نہیں رہے جنہوں نے یہ احادیث سنی تھیں اور اصل اور نقل میں تمیز کر سکتے تھے۔ مزید برآں فتوحات اور اسلامی سلطنت کی توسیع اور بڑھتے ہوئے بیرونی روابط کے نتائج میں ایک نیا خفلشار اسلامی فلسفہ میں ایران، روم اور یونان کے فلسفوں کی آمیزش کی صورت میں نمودار ہو گیا تھا۔
ــــــــــــــــــ✍🏻
 سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۳/۲۸ | 2:47 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |
.: Weblog Themes By Bia2skin :.