دعا میں الحاح و زاری
حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایا:
وَالله لا يُلِحُّ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ عَلَى الله عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ إِلا قَضَاهَا لَهُ.
خدا کی قسم!جب کوئی بندہ مومن خدا کی بارگاہ میں الحاح و زاری کرتا ہے تواللہ اسکی حاجت کو(ضرور)پوراکرتا ہے۔
مشکل یہی ہے کہ ہم لوگ دعا مانگنے کی بجائے پڑھتے ہیں اور دل کہیں اور دماغ کہیں ہوتا ہے
ہم ایک دفعہ مانگ کر چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ دعا قنول تو ہوتی ہی نہیں ہے تو مانگنے سے کیا فائدہ ؟
جب امام علیہ السلام نے فرمایا کہ الحاح و زاری سے کام لوگے تو ہی فائدہ ملنا ہے.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 وسائل الشیعہ:ج7:ص58
📚 الکافی:ج2:ص475
📚 الدعاء حقيقته ، آدابه ،
📚 آثاره:ص49
🔹 تدوین فقہ اور امام صادق (علیہ السلام)🔹
✍🏻 یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس افرا تفری کے عالم میں فقہ اسلامی کو اس اصل روح میں محفوظ رکھنا کس کی ذمہ داری تھی؟ واقعہ کربلا اور اس کے تسلسل میں دربارِ شام میں حضرت سیدہ زینب (سلام اللہ علیھا) کے خطبہ نے ثابت کر دیا کہ حق اور نا حق اور سچائی اور گمراہی میں حد فاصل قائم رکھنے کا فریضہ آئمہ حق نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔ یہ ذمہ داری ان آئمہ نے نہایت حکمت علمی و عملی سے انجام دی۔ اس کی خاموش ابتداء امام زین العابدین (علیہ السلام) نے اپنی دعاؤں سے کی، جن کے ذریعے امت کے افراد کے ذہنوں کی تربیت کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں امام محمد باقر (علیہ السلام) نے مدینے میں اپنی درس گاہ میں باقاعدہ درس کا آغاز کیا جس کی بنیادوں کو امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے استوار کیا۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ آپ کو اپنی 65 سال عمر میں سے تقریباً 12 سال اپنے دادا حضرت علی ابن الحسین (علیہ السلان) کی معیت میں اور پھر 19 سال اپنے والد ماجد کے زیر سایہ گزارنے کا موقع ملا اور پھر خود اپنی امامت کے 34 سال میسر ہوئے
۔
✍🏻 دانشگاہ امام جعفر صادق (علیہ السلام)
اس دوران بنی امیہ اور بنی عباس کو اپنی لڑائیوں میں مشغولیت نے آل محمد (علیھم السلام) کی طرف توجہ کرنے کا موقع نہیں دیا۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس درس گاہ کو ایک عظیم دانش گاہ کے رتبہ تک پہنچا دیا۔ یہ ایک ایسی دانشگاہ تھی کہ جسکے نصاب کے دستاویز بہت پہلے ہی امام زین العابدین (ع) نے صحیفہ کاملہ کی شکل میں تیار کر دئیے تھے۔ بظاہر یہ دعاؤں کا مجموعہ اپنے اندر حکمت اور دانائی ، احکام خداوندی ، عبد اور معبود کے تعلقات ، حقوق الناس اور تخلیق کائنات جیسے بہت سے عنوانات پر مشتمل تھا جو پڑھنے والوں کو دعوت فکر دیتا ہے۔
محمد ابن یعقوب کلینی نے 16199 احادیث پر مشتمل اصول کافی بطور تدریسی مواد مہیا کیا جس کو من لا یحضر الفقیہ ، تہذیب اور استبصار نے مزید و سعت دی اور اس طرح تقریباً 60 ہزار احادیث پر مشتمل یہ مایہ ناز سرمایہ بنا، جس کی موجودگی میں ہمارے علماء کو قیاس اور رائے پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی تدوین فقہ کی انہی کوشش کی بناء پر فقہ محمدی کو فقہ جعفری سے موسوم کیا گیا، کیونکہ اس کو فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی سے ممتاز کیا جا سکے۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب باقی فقہوں کو ریاست کی سرپرستی حاصل تھی فقہ جعفری پُر زور مخالفتوں کا مقابلہ کرتی ہوئی پھیلی اور یوں اپنی ترقی کی راہیں طے کرتی رہی۔ اس کے ارتقاء میں قابل ذکر سنگِ میل علامہ حلی ( ساتویں صدی ) علامہ بہبہانی ( گیارہویں صدی ) شیخ مرتضیٰ (تیرہویں صدی ) اور پھر موجودہ دور میں ایران ، عراق، بیروت اور دمشق کے حوزہ علمیہ نے اس کی آبیاری کا فریضہ سنبھالا ہوا ہے۔
موجودہ دور میں فقہ جعفری کی اعلیٰ علمی حلقوں میں پذیرائی کی ایک قابل ذکر مثال مصر کی عظیم دانشگاہ جامعہ الازہر کے چانسلر مفتی علامہ شیخ محمود شلتوت کا ایک منصفانہ اور جرات مندانہ قدم ہے۔ تقریباً بیس سال پہلے انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور قوی دلیل کی موجودگی میں ایک مذہب یا فقہ کے ماننے والوں کے لیے دوسرے مذہب کی طرف رجوع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے اور اس بناء پر انہوں نے قانونی طور پر فتویٰ دیا کہ دوسرے مذہب کی طرح شیعہ فقہ پر بھی عمل صحیح ہے۔ ان کا یہ اقدام قدر و منزلت کا متقاضی ہے۔
*فقہ جعفری* کی برتری کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ دیگر تمام فقہوں کے بانی بالواسطہ یا بلا واسطہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے شاگرد تھے اور اس پر ان کو ناز بھی تھا۔ فقہ جعفری میں دور جدید کی ضروریات کے مطابق اجتھاد کے ذریعے انسانی مسائل کے حل کی تمام صلاحتیں موجود ہیں۔ یہ ایک عادلانہ نظام ہے جو نیکی اور بدی میں تمیز کی راہ بتاتا ہے، جہاں خوشی کے موقعوں پر خوشی کے اظہار کا ڈھنگ اور آلام و مصائب میں تعزیت کے اسلوب بتائے جاتے ہیں۔ جہاں اکابرین کے کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور عبرت کے نشانات سے دوری سکھائی جاتی ہے یہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں مدد دیتا ہے۔
ــــــــــــــ✍🏻
سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
🔹 تدوین فقہ جعفری ایک جائزہ :🔹
✍🏻 امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے تذکرے میں ذہن فوری فقہ جعفری کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، کیونکہ تدوین فقہ کی کوشش امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے حوالے کے بغیر نا ممکن سمجھی جاتی ہے۔
مکتب تشیع کی فقہ یعنی فقہ جعفری تو اپنی وجہ تسمیہ ہی سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی مرہون منت اور احسان مندی ظاہر کرتی ہے۔
عربی میں فقہ کے لغوی معنی علم و فہم ہے اور فقیہ کے معنی عالم ہیں لیکن مرور زمانہ کے ساتھ اصطلاحاً اس سے دینی مسائل اور استدلالی علم مراد لیا جاتا ہے۔ جس میں احکام شریعہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ احکام واجب ، مستحب ، حرام ، مکروہ ، اور مباح کے محور کے اطراف اپنے میں سبب، شرط ، مانع ، صحت بطلان، رخصت اور عزیمت کے پہلو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ تمام فقہی اصطلاحات ہیں جن کی تفصیل متعلقہ کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ فقہ کی اس مختصر تشریح کے بعد اب تدوین کا مطلب جمع کرنا یا مرتب کرنا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم تددوین کی نسبت سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپ نے فقہ محمدیہ کے احکام کو جمع اور مرتب کیا کہ وہ ایک مستقل علم بن گیا۔
اسلامی تاریخ میں فقہ کی تدوین کے چند واضح ادوار نظر آتے ہیں ، امام صادق (ع) کی علمی برکات کو سمجھنے کے لیے فقہ اسلامی کے تدریجی ارتقاء کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کا سبب پہلا عہد حضرت ختمی مرتبت کی ظاہری رسالت سے 11ھ تک محیط ہے جس میں سوائے چند استثنائی واقعات ( صلح حدیبیہ ، حدیث قرطاس ) کے بظاہر مسلمانوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ رحلت رسول کائنات (ص) کے فوری بعد سب سے بڑا فقہی اختلاف آنحضرت کی جانشینی کے سلسلہ میں نمودار ہوا اس دور میں جو پہلے تین خلفاء کے زمانہ یعنی تقریباً 24 سال (35 ھ) تک پھیلا ہوا ہے۔ قرآن اور سنت کے علاوہ فقہ کے ماخذ میں قیاس اور اجماع کا اضافہ ہوا اور ساتھ ساتھ ابوبکر اور عمر نے روایت حدیث پر کڑی پابندی لگا دی، جس کی وجہ سے قیاس پر زیادہ انحصار ہوا۔ تیسرا دور 35 ھ تا 40 ھ میں خلافت امیر المؤمنین کے دوران قرآن و سنت ہی ماخذ فقہ رہے اور اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔
اثنائے عشری شیعہ عقیدہ کی رو سے اسلام کی اصل تشریح وہی ہے جو وفات پیغمبر کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) سے لے کر بارہویں امامت تک بلا فصل جاتی ہے۔ بالآخر ہر حکم کا منبع قول معصوم علیھم السلام ہوتا ہے اور جو کچھ راوی کی زبان پر آئے گا وہ عصمت فکر اور معیار صداقت پر پورا اترے گا۔ حضرت امام علی (علیہ السلام) سے امام حسین (علیہ السلام) تک یہ وصل قول انتہائی بھر پور انداز میں عیاں ہے۔
چوتھا دور 60 ھ تا 133 ھ کا ہے، جو بنی امیہ کی خلافت کا زمانہ ہے اس دور میں شہادت امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) ، امام حسن (علیہ السلام) کی ظاہری خلافت سے دستبرداری اور شہادت امام حسین (علیہ السلام)، سانحہ کربلا و مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تاراجی کے واقعات دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ سلاطین بنی امیہ کس فقہ کے پابند تھے۔ جس میں ان باتوں کی انہیں اجازت تھی۔ عمر بن عبد العزیز کے دور میں البتہ فدک واپس کیا گیا لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کس فقہ کے تحت چھینا گیا تھا۔
پانچواں طویل دور 135 ھ سے 260 ھ یعنی 125 سال پر محیط ہے، دور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی امامت کے ابتدائی زمانے سے شہادت امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے بعد تک پھیلا ہوا ہے، سیاسی اور فکری اعتبار سے تاریخ اسلام کا یہ نہایت اہم دور تھا اس زمانے میں بے شمار تاریخ ساز واقعات اور تحریکات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں امت مسلمہ بشمول شیعہ فقہی اعتبار سے مختلف مسلکوں میں بٹ گئی ۔ اس دور میں روایت حدیث پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وقتی مصلحتوں اور حاکمان وقت کی سرپرستی کے نتیجے میں وضع حدیث ایک مشغلہ اور پیشہ بن گیا تھا۔ اس دور میں امام جنبل ،امام بخاری ،امام مسلم ، ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی کی مسانید کی تدوین ہوئی اب وہ صحابہ اور تابعین بھی نہیں رہے جنہوں نے یہ احادیث سنی تھیں اور اصل اور نقل میں تمیز کر سکتے تھے۔ مزید برآں فتوحات اور اسلامی سلطنت کی توسیع اور بڑھتے ہوئے بیرونی روابط کے نتائج میں ایک نیا خفلشار اسلامی فلسفہ میں ایران، روم اور یونان کے فلسفوں کی آمیزش کی صورت میں نمودار ہو گیا تھا۔
ــــــــــــــــــ✍🏻
سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
🌹🌹🌹
🌸 شخصیت امام جعفر صادق علیه السلام پر مختصر روشنی.
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
✅نام: جعفر (علیه السلام)
✅نام والد گرامی: امام محمد باقر (علیہ السلام).
✅نام والدہ گرامی: ام فروه (دختر قاسم بن محمد).
✅نام همسر: حمیده.
✅کنیه: ابا عبد الله.
✅شهرت: رئیس مذهب جعفری.
✅القاب: صادق، صابر، فاضل، طاهر.
✅مقام امامت: امامت کی چھٹویں کڑی.
✅مقام عصمت: آٹھواں معصوم.
🌸تاریخ ولادت: 17 ربیع الاول.
🌸سال ولادت: 83 هجری قمری.
🌸ولادت کی جگھ: مدینه منوره.
🌸اولاد : 6 پسر (امام کاظم علیه السلام) و یک دختر.
✅آغاز سال امامت: 114 هجری قمری.
✅ آغاز سن امامت: 31 سالگی.
✅ مدت امامت: 34 سال.
☑️شهادت کا مھینا: 25 شوال.
☑️سال شهادت: 148 هجری قمری.
☑️شهادت کی جگھ: مدینه منوره.
☑️سبب شهادت: سمّ( زھر)
☑️قاتل: ملعون منصور دوانیقی خلیفه ستمگر عباسی.
✅حرم مطهر: بقیع بی بقعه، مدینه.
✅مدت عمر: 65 سال
.
☑️خلفاء غاصب معاصر: 10 خلیفه (یزید بن عبدالملک سے مروان حمار تک یہ امویوں سے آخری خلیفہ سفاح و منصور دوانیقی خلفای عباسی)
✅مهمترین تبدیلیاں عصر امام: امویوں سے خلافت کا منتقل ہونا عباسیوں کی طرف بڑی جنگ اور خونریزی کے بعد.
✅مقام علمی: 4000 چار ھزار شاگردوں کی تربیت کی (ان میں من جمله ابوحنیفه و مالک، یہ دونوں اهل سنت کے امام ہیں )
✅احادیث مشهور: حدیث حج، حدیث توحید مفضل و حدیث عنوان بصری.
✅خصوصیات اور امام ع کے اقدمات دور:
1. کثرت کے ساتھ علمی، فقه و حدیث، کی فعالیت.
2. بھت ساری روایات کا نقل کرنا.
3. امام ع نے بھت مناظرات کیئے مختلف مذاھب کے علماء سے.
4. ترویج و تقویت مکتب شیعه.
5. 100 سال کے بعد مرقد مطھر امیر المؤمنین علیہ السلام کا ظاھر کرنا.
ــــــــــــــ✍🏻
سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
🔹🔹🔹 علم بــے عــمل🔹🔹🔹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قَالَ الإمام علي ( علیه السلام ) :
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📝 أَوْضَعُ الْعِلْمِ مَا وُقِفَ عَلَی اللِّسَانِ وَ أَرْفَعُهُ مَا ظَهَرَ فِی الْجَوَارِحِ وَ الْأَرْکَانِ.
🖊️ وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 نهج البلاغه/حكمة:92
ـــــــــــــــــــــــــــ✍️
🟡 سیرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌐 Sirateaimamasoomin.blogfa.com
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📞 Call: +989150693306
📞 Call: +989307731247
🔹امام مھدی(عجل اللہ فرجہ الشریف) کے ظھور کی امید لگائے بیٹھے رہو مایوسی کفر ہے🔹
🔹 فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
🔹 إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
ترجمہ:
اس بناء پر یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے.
اور یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے.
🔹 وہ آسانی جو ابدی ہے اللھم عجل لولیک الفرج ظھور کے بعد سب مشکلیں حل ہوجائیں گی.
ادامه مطلب
فصل دوم:
🌹 *مہدی علیہ السلام اور مہدویت کے دعویدا* 🌹
شیخ عباس شیخ الرئیس کرمانی
موعود امم (عالمی )امن کا ضامن
جلوے
ولادت مہدی علیہ السلام
القاب مہدی علیہ السلام
اور جھوٹے دعویدار
باب اول
حضرت امام مہدی (علیہ السلام)کی ذات کے جلوے
ادامه مطلب
اولاد کی نماز پر توجہ
🌈نماز بچوں کی تربیت میں ایک اھم کردار ادا کرتا ہے، بچوں کو نماز کی طرف راغب کرنا یعنی ان کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا ہے اور جب بچہ اللہ کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنا ہر کام اللہ کے لئے کرتا ہے اور یہ تربیت کا سب سے اعلی اور اچھا طریقہ ہے
جیسا کہ جناب اسماعیل(علیہ السلام) کی توصیف میں اس طرح قرآن میں آیا ہے:
«وَ کانَ یَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاةِ وَ الزَّکاةِ وَ کانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِیًّا
[سورۂ مریم، آیت:۵۵]
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوِٰ کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے»۔
خداوند متعال رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو بھی حکم دے رہا ہے کہ اپنے خاندان کو نماز کی طرف راغب کرو:
«وَ أْمُرْ أَهْلَکَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْها
[سورۂ طہ، آیت:۱۳۲]
اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں اور اس پر صبر کریں!»۔
روایتوں میں اس بات کی طرف بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے کہ ۷ سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز کی عادت ڈالو اور ۹ سال کی عمر میں ان کی نماز کی طرف بہت زیادہ توجہ دو۔
""""""""""""""""🤲تیسویں دعا🤲"""""""""""""""
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🤲 ادائے قرض کی دعا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَ أَعُوذُ بِكَ يَا رَبِّ مِنْ هَمِّ الدَّيْنِ وَ فِكْرِهِ وَ شُغْلِ الدَّيْنِ وَ سَهَرِهِ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَعِذْنِي مِنْهُ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قرض کے فکر و اندیشہ سے اور اس کے جھمیلوں سے اور اس کے باعث بے خوابی سے، تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس سے پناہ دے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 صحیفہ سجادیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سيرة الائمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Call: +989150693306
Call: +989307831247
نام: زاهد حسین مری
کدتحصیلی: 1254831
شماره همراه: 00989150693306
شماره همراه: 00989307831247
نام لینک گروه واتسپ حسینی گروپ
نام پیج در فیسبک سیرت آئمه معصومین علیهم السلام
در بلوگفا: سیرت ائمه معصومین علیهم السلام
یوتوب چینل: سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
لینک واتسپ:
https://chat.whatsapp.com/IZ8L3TCtCfv7DHf0Fq06vY
لینک واتسپ:
https://chat.whatsapp.com/Je33OK66GubFewJieRwhPg
لینک فیسبک:
https://www.facebook.com/%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%A6%D9%85%DB%81-%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DA%BE%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-153266598621237/
لینک بلوگفا:
http://sirateaimamasoomin.blogfa.com
قال الامام المهدی علیه السلام:
انا یحیط علمنا با نبائکم ، ولا یعزب عنا شئی من اخبارکم
ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
تمھارے سارے حالات ھمارے علم میں ھیں اور تمھاری کوئی بات ھم سے پوشیدہ نھیں ھے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بحار الانوار ج /۵۳ ص/۱۷۵
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سيرة الائمة المعصومين عليهم السلام