╗═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╔
..🌌✨مــــــعــــاد شــــــــــــــناسی✨🌌
╝═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╚

🔲♦️جز اول (1)♦️🔲

🎇🌳مکتب سیرۃ الائمة (ع) 🌳🎇

🌹قیامت سے انکار کرنے والے اور ان کی سزا🌹
  
ـــــــــــــــــ ـالـقرآن الکریــــم ــــــــــــــــــ
                      
💖💖 بسم اللہ الرحمن الرحیم 💖💖


📜 وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ
 
✍🏻 تــــرجــمہ:
✒️ اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہمیں گمان سا ہوتا ہے اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں۔

✍🏻 تفسیر آیت:
 قیامت کا انکار کرنے والوں کی بہ نسبت اس پر شک کرنے والے اگرچہ منطقی طرز فکر کے نزدیک ہیں، تاہم وہ یقینی دلائل و شواہد کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اس لیے نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہو گا۔

📜 وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ

✍🏻 تـــــرجـــمہ:
✒️اور ان پر اپنے اعمال کی برائیاں ظاہر ہو گئیں اور جس چیز کی وہ ہنسی اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔

✍🏻 تفسیر آیت:
مجرم جب جرم کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے تو اس کو اپنے جرم کا اندازہ نہیں ہوتا، لیکن جب مکافات عمل کا وقت آتا ہے تو اس وقت اس کی برائی کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ کس درجے کا جرم تھا۔

📜 وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ

✍🏻 تــــرجــمہ:
✒️ اور کہا جائے گا: آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیتے ہیں جس طرح تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں ہے۔

✍🏻 تفسیر آیت:
قیامت کے دن اللہ کی طرف سے بھلا دینے کا مطلب یہ ہے : اللہ ان کو قیامت کی ہولناک حالت پر چھوڑ دے گا، جیساکہ ان لوگوں نے روز قیامت کے بارے میں ہر ایمان و عمل کو ترک کیا تھا۔

📜 ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ

✍🏻 تــــــرجـــمہ:
✒️ یہ (سزا) اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنایا تھا اور دنیاوی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ اس (جہنم) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی معذرت قبول کی جائے گی۔

✍🏻 تفیسر آیت:
جہنم ان کا ٹھکانا اس لیے بنا کہ وہ آیات الہٰی کا مذاق اڑاتے تھے۔ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ آج وہ آتش جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کا عذر قبول نہ ہو گا۔ 
یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ، الاستعتاب عذر طلبی کو کہتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

📚 السورۃ الجاثیة: آیت:32..33..34..35
📚 تــــفســـير البلاغ القرآن

                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
🌐
مکتب: ســــيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام

                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
                          *_📯 blogfa:_*
            *_www.sirateaimamasoomin.blogfa.com_*
                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
ـــــــــــــــ✍🏻
 بندہ حقیر: زاھد حسین محمدی مشھدی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 *📞Call: +989150693306* 
 *📞Call: +989308731247*



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۸ | 12:47 AM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🔵🔹موضوع مُطہّرات 🔹🔵 

 بارہ (12) چیزیں ایسی ہیں جو نجاست کو پاک کرتی ہیں اور انہیں مطہرات کہا جاتا ہے۔

1️⃣ پانی
2️⃣ زمین
3️⃣ سورج
4️⃣ استحالہ
5️⃣ انقلاب
6️⃣ انتقال
7️⃣ اسلام
8️⃣ تبعیت 
9️⃣ عین نجاست کا دور ہونا
0️⃣1️⃣ نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء
1️⃣1️⃣ مسلمان کا غائب ہو جانا
2️⃣1️⃣ معمول کے مطابق (ذبیحہ کے) خون کا بہہ جانا

ــــــــــــ✍🏻

🔵  پانی

 مسئلہ150:پانی چار شرطوں کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے۔
1️⃣ پانی مطلق ہو۔ مضاف پانی مثلاً عرق گلاب یا عرق بید مشک سے نجس چیز پاک نہیں ہوتی۔
2️⃣ پانی پاک ہو۔
3️⃣ نجس چیز کو دھونے کے دوران پانی مضاف نہ بن جائے۔ جب کسی چیز کو پاک کرنے کے لئے پانی سے دھویا جائے اور اس کے بعد مزید دھونا ضروری نہ و تو یہ بھی لازم ہے کہ اس پانی میں نجاست کی بو، رنگ یا ذائقہ موجود نہ ہو لیکن اگر دھونے کی صورت اس سے مختلف ہو (یعنی وہ آخری دھونا نہ ہو) اور پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اگر کوئی چیز کُر پانی یا قلیل پانی سے دھوئی جائے اور اسے دو مرتبہ دھونا ضروری ہو تو خواہ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ پہلی دفعہ دھونے کے وقت بدل جائے لیکن دوسری دفعہ استعمال کئے جانے والے پانی میں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔
4️⃣ نجس چیز کو پانی سے دھونے کے بعد اس میں عین نجاست کے ذرات باقی نہ رہیں۔
نجس چیز کو قلیل پانی یعنی ایک کُر سے کم پانی سے پاک کرنے کی کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کا ذکر کیا جا رہا ہے:

🔹 مسئلہ151: نجس برتن کے اندرونی حصے کو قلیل پانی سے تین دفعہ دھونا ضروری ہے اور کُر یا جاری پانی کا بھی احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم ہے لیکن جس برتن سے کُتے نے پانی یا کوئی اور مائع چیز پی ہو اسے پہلے پاک مٹی سے مانجھنا چاہئے پھر اس برتن سے مٹی کو دُور کرنا چاہئے، اس کے بعد قلیل یا کُر یا جاری پانی سے دو دفعہ دھونا چاہئے۔ اسی طرح اگر کُتے نے کسی برتن کو چاٹا ہو اور کوئی چیز اس میں باقی رہ جائے تو اسے دھونے سے پہلے مٹی سے مانجھ لینا ضروری ہے البتہ اگر کتے کا لعاب کسی برتن میں گر جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر اسے مٹی سے مانجھنے کے بعد تین دفعہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔

🔹 مسئلہ152: جس برتن میں کتے نے منہ ڈالا ہے اگر اس کا منہ تنگ ہو تو اس میں مٹی ڈال کر خوب ہلائیں تاکہ مٹی برتن کے تمام اطراف میں پہنچ جائے۔ اس کے بعد اسے اسی ترتیب کے مطابق دھوئیں جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں ہو چکا ہے۔

🔹 مسئلہ153: اگر کسی برتن کو سوّر چاٹے یا اس میں سے کوئی بہنے والی چیز پی لے یا اس برتن میں جنگلی چوہا مر گیا ہو تو اسے قلیل یا کُر یا جاری پانی سے ساتھ مرتبہ دھونا ضروری ہے لیکن مٹی سے مانجھنا ضروری نہیں۔

🔹 مسئلہ154: جو برتن شراب سے نجس ہو گیا ہو اسے تین مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ اس بارے میں قلیل یا کُر یا جاری پانی کی کوئی تخصیص نہیں۔
 

🔹 مسئلہ154: اگر ایک ایسے برتن کو جو نجس مٹی سے تیار ہوا ہو یا جس میں نجس پانی سرایت کر گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈال دیا جائے تو جہاں جہاں وہ پانی پہنچے گا برتن پاک ہو جائے گا اور اگر اس برتن کے اندرونی اجزاء کو بھی پاک کرنا مقصود ہو تو اسے کُر یا جاری پانی میں اتنی دیر تک پڑے رہنے دینا چاہئے کہ پانی تمام برتن میں سرایت کر جائے۔ اور اگر اس برتن میں کوئی ایسی نمی ہو جو پانی کے اندرونی حصوں تک پہنچنے میں مانع ہو تو پہلے اسے خشک کر لینا ضروری ہے اور پھر برتن کو کُر یا جاری پانی میں ڈال دینا چاہئے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 توضیح المسائل
 مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی مد ظلہ العالی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
          🌐 *
سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام*
                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
 *Call: +989150693306* 
 *Call: +989307831247* 
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
                          *_📯 BLOGFA:_*
            *_www.sirateaimamasoomin.blogfa.com_*
                 *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*



تاريخ : سه شنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۷ | 2:34 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

╗═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╔
*🌌✨ائمہ معصومین علیھم السلام✨🌌*
╝═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╚

_🔲♦️جزء دوم (2)♦️🔲_
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹
چھاردہ 14 معصومین علیھم السلام کے متعلق مختصر معلومات🌹

🌹 وہ امام جو ماہ رجب میں اس دنیا میں آئے :🌹

1️⃣ امام باقر (علیہ السلام) پہلی رجب کو
2️⃣ امام محمد تقی (علیہ السلام) 10 رجب کو 
3️⃣ امام علی (علیہ السلام) 13 رجب کو

🌹 وہ امام جو بچپن مین امامت کے درجے پر فائز ہوئے :🌹

1️⃣ امام جواد (علیہ السلام) 
2️⃣ امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)

🌹 وہ امام جو ماہ شعبان میں اس دنیا میں آئے :🌹

1️⃣ امام حسین (علیہ السلام) 3 شعبان کو
2️⃣ امام سجاد (علیہ السلام) 5 شعبان کو
3️⃣ امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف) 15 شعبان کو

🌹 ہمارے وہ امام جن کی والدہ کا نام فاطمہ تھا:🌹

1️⃣ امام علی (علیہ السلام) 
2️⃣ امام حسن (علیہ السلام) 
3️⃣ امام حسین (علیہ السلام) 
4️⃣ امام محمد باقر (علیہ السلام) جن کی والدہ فاطمہ دختر امام حسن مجتبی (ع) تھیں.

🌹 ہمارے وہ امام جو کاظمین میں مدفون ہیں :🌹

1️⃣ امام موسی کاظم (علیہ السلام) 
2️⃣ امام محمد تقی جواد (علیہ السلام)

🌹 ہمارے وہ امام جو شھر سامرا میں مدفون ہیں:🌹

1️⃣ امام علی نقی الھادی (علیہ السلام)
 2️⃣ امام حسن عسکری (علیہ السلام)

🌹 ہمارے وہ امام جن کے والد کا نام علی تھا :🌹

1️⃣ امام حسن (علیہ السلام)
2️⃣ امام حسین (علیہ السلام)
3️⃣ امام جواد (علیہ السلام)

🌹 قبر امام علی (ع) کس کے توسط سے کھودی گئی ؟

قبر امام علی (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے توسط سے، ان کی شھادت سے 700 سال پہلے آمادہ کی گئی تھی.

🌹 پیغمبر اکرم (ص) نے کن اماموں کو گوشوارہ عرش کہا ؟🌹

1۔ امام حسن (علیہ السلام) 
2۔ امام حسین (علیہ السلام)

🌹 القاب🌹

🔹 امیر المومنین: لقب حضرت علی (علیہ السلام)
🔹یوسف ال محمد: امام حسن مجتبی (علیہ السلام)
🔹 خامس ال عبا: امام حسین (علیہ السلام)
🔹کریم اهل بیت: امام حسن مجتبی (علیہ السلام)
🔹 سید الشهدا: امام حسین (علیہ السلام)
🔹صادق ال محمد: امام صادق (علیہ السلام)
🔹شیخ الائمه: امام صادق (علیہ السلام)
🔹عالم ال محمد: امام رضا (علیہ السلام)
🔹غریب الغربا: امام رضا (علیہ السلام)
🔹ضامن اهو: امام رضا (علیہ السلام)
🔹طاووس اهل الجنه: حضرت مهدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)
🔹جواد الائمه: امام محمد تقی (علیہ السلام)
🔹باقر العلوم: امام محمد باقر (علیہ السلام)
🔹سید الساجدین: امام سجاد (علیہ السلام)
🔹ام ابیها: حضرت زهرا (علیھا السلام)
🔹ام الائمه: حضرت زهرا (علیھا السلام)
🔹ابوالائمه: حضرت علی(علیہ السلام)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌐
مكتب سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــ✍️
بندہ حقیر: زاھد حسین محمدی مشھدی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📞 Call: +989150693306
📞 Call: +989307831247



تاريخ : یکشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۵ | 5:1 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

╗═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╔
.🌌✨ائمہ معصومین علیھم  السلام✨🌌.
╝═════•○ اஜ۩۞۩ஜا ○•══════╚

_🔲♦️جزء اول (1)♦️🔲_

_🌹چھاردہ 14 معصومین علیھم السلام کے متعلق مختصر معلومات🌹_

🌹 14 معصوم علیھم السلام:

1️⃣ حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
2️⃣ حضرت فاطمہ زھرا (سلام اللہ علیھا)
12 اماموں کو ساتھ ملا کر 14 معصوم کہلاتے ہیں

🌹 پنجتن آل عبا:

1️⃣ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) 
2️⃣ امام علی (علیہ السلام) 
3️⃣ حضرت زھرا (سلام اللہ علیہا) 
4️⃣ امام حسن (علیہ السلام)
5️⃣ امام حسین (علیہ السلام) 
پنجتن آل عبا کہتے ہیں

🌹 12 امام علیھم السلام:

1: امام علی علیہ السلام
2: امام حسن علیہ السلام
3: امام حسین علیہ السلام
4: امام سجاد  علیہ السلام
5: امام محمد باقر علیہ السلام
6: اما جعفر صادق علیہ السلام
7 : امام موسی کاظم علیہ السلام
8: امام علی رضا علیہ السلام
9: امام محمد تقی علیہ السلام
10 : امام علی نقی علیہ السلام 
11: امام حسن عسکری علیہ السلام
12 : امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف

🌹 ھفتے کا ھر دن معصومین کے متعلق ہے :

1️⃣ ھفتے کا دن امام علی نقی الھادی (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق ھفتے کا دن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہے۔
2️⃣ اتوار کا دن امیرالمومنین (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔ 
3️⃣ پیر کا دن امام حسن (علیہ السلام)  اور امام حسین (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔
4️⃣ منگل کا دن امام سجاد (علیہ السلام) امام محمد باقر (علیہ السلام) اور امام صادق (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔
5️⃣ بدھ کا دن امام کاظم (علیہ السلام) امام رضا (علیہ السلام) امام جواد (علیہ السلام) اور امام ھادی (علیہ السلام) سے متعلق ہے
6️⃣ جمعرات کا دن امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔
7️⃣ جمعے کا دن امام زمان عج سے متعلق ہے۔ 
🍃 (حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے متعلق کوئی خاص دن نہیں البتہ زیارت حضرت فاطمہ (س) کے لئے اتوار کے دن کا بتایا گیا ہے)

🌹 وہ امام جو بچپن مین امامت کے درجے پر فائز ہوئے:

1️⃣ امام جواد علیہ السلام
2️⃣ امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)

🌹 ہمارے وہ امام جن کی والدہ کا نام فاطمہ تھا:

1️⃣ حضرت علی (علیہ السلام) 
2️⃣ امام حسن (علیہ السلام) 
3️⃣ امام حسین (علیہ السلام) 
4️⃣ امام محمد باقر (علیہ السلام) جن کی والدہ فاطمہ دختر امام حسن مجتبی تھیں.

🌹 ہمارے وہ چار معصوم جن کے نام محمد ہیں :

1️⃣ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) 
2️⃣ امام باقر (علیہ السلام) 
3️⃣ امام محمد تقی الجواد (علیہ السلام) 
4️⃣ امام زمان (عجل اللہ فرجہ الشریف)

🌹 ہمارے وہ امام جو قبرستان بقیع میں مدفون ہیں :

1️⃣ امام حسن مجتبی (علیہ السلام)
2️⃣ امام زین العابدین السجاد (علیہ السلام)
3️⃣ امام محمد باقر (علیہ السلام) 
4️⃣ امام جعفر صادق (علیہ السلام)

🌹 ہمارے وہ امام جو عاشور کے دن کربلا میں موجود تھے :

1️⃣ امام حسین (علیہ السلام) 
2️⃣ امام زین العابدین (علیہ السلام) 
3️⃣ امام محمد باقر (علیہ السلام)

🌹 ہمارے وہ امام جن کی کنیت ابوالحسن تھی :

1️⃣ امام علی  علیہ السلام
2️⃣ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
3️⃣ امام علی رضا علیہ السلام
4️⃣ امام علی نقی علیہ السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌐
مكتب سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــ✍️
بندہ حقیر: زاھد حسین محمدی مشھدی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📞 Call: +989150693306
📞 Call: +989307831247



تاريخ : شنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۴ | 9:40 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🔵🔹 موضوع مُطہّرات🔹🔵 

 بارہ (12) چیزیں ایسی ہیں جو نجاست کو پاک کرتی ہیں اور انہیں مطہرات کہا جاتا ہے۔ 

1️⃣ پانی
2️⃣ زمین
3️⃣ سورج
4️⃣ استحالہ
5️⃣ انقلاب
6️⃣ انتقال
7️⃣ اسلام
8️⃣ تبعیت
9️⃣ عین نجاست کا دور ہونا
0️⃣1️⃣ نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء
1️⃣1️⃣ مسلمان کا غائب ہو جانا
2️⃣1️⃣ معمول کے مطابق (ذبیحہ کے) خون کا بہہ جانا

ــــــــــــ✍🏻

🔵 پانی 🔵

 مسئلہ150: پانی چار شرطوں کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے۔
1️⃣ پانی مطلق ہو۔ مضاف پانی مثلاً عرق گلاب یا عرق بید مشک سے نجس چیز پاک نہیں ہوتی۔
2️⃣ پانی پاک ہو۔
3️⃣ نجس چیز کو دھونے کے دوران پانی مضاف نہ بن جائے۔ جب کسی چیز کو پاک کرنے کے لئے پانی سے دھویا جائے اور اس کے بعد مزید دھونا ضروری نہ و تو یہ بھی لازم ہے کہ اس پانی میں نجاست کی بو، رنگ یا ذائقہ موجود نہ ہو لیکن اگر دھونے کی صورت اس سے مختلف ہو (یعنی وہ آخری دھونا نہ ہو) اور پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اگر کوئی چیز کُر پانی یا قلیل پانی سے دھوئی جائے اور اسے دو مرتبہ دھونا ضروری ہو تو خواہ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ پہلی دفعہ دھونے کے وقت بدل جائے لیکن دوسری دفعہ استعمال کئے جانے والے پانی میں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔
4️⃣ نجس چیز کو پانی سے دھونے کے بعد اس میں عین نجاست کے ذرات باقی نہ رہیں۔
نجس چیز کو قلیل پانی یعنی ایک کُر سے کم پانی سے پاک کرنے کی کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کا ذکر کیا جا رہا ہے:

🔹 مسئلہ151: نجس برتن کے اندرونی حصے کو قلیل پانی سے تین دفعہ دھونا ضروری ہے اور کُر یا جاری پانی کا بھی احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم ہے لیکن جس برتن سے کُتے نے پانی یا کوئی اور مائع چیز پی ہو اسے پہلے پاک مٹی سے مانجھنا چاہئے پھر اس برتن سے مٹی کو دُور کرنا چاہئے، اس کے بعد قلیل یا کُر یا جاری پانی سے دو دفعہ دھونا چاہئے۔ اسی طرح اگر کُتے نے کسی برتن کو چاٹا ہو اور کوئی چیز اس میں باقی رہ جائے تو اسے دھونے سے پہلے مٹی سے مانجھ لینا ضروری ہے البتہ اگر کتے کا لعاب کسی برتن میں گر جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر اسے مٹی سے مانجھنے کے بعد تین دفعہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔

🔹 مسئلہ152: جس برتن میں کتے نے منہ ڈالا ہے اگر اس کا منہ تنگ ہو تو اس میں مٹی ڈال کر خوب ہلائیں تاکہ مٹی برتن کے تمام اطراف میں پہنچ جائے۔ اس کے بعد اسے اسی ترتیب کے مطابق دھوئیں جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں ہو چکا ہے۔

🔹 مسئلہ153: اگر کسی برتن کو سوّر چاٹے یا اس میں سے کوئی بہنے والی چیز پی لے یا اس برتن میں جنگلی چوہا مر گیا ہو تو اسے قلیل یا کُر یا جاری پانی سے ساتھ مرتبہ دھونا ضروری ہے لیکن مٹی سے مانجھنا ضروری نہیں۔

🔹 مسئلہ154: جو برتن شراب سے نجس ہو گیا ہو اسے تین مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ اس بارے میں قلیل یا کُر یا جاری پانی کی کوئی تخصیص نہیں۔
۱۵۵۔ اگر ایک ایسے برتن کو جو نجس مٹی سے تیار ہوا ہو یا جس میں نجس پانی سرایت کر گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈال دیا جائے تو جہاں جہاں وہ پانی پہنچے گا برتن پاک ہو جائے گا اور اگر اس برتن کے اندرونی اجزاء کو بھی پاک کرنا مقصود ہو تو اسے کُر یا جاری پانی میں اتنی دیر تک پڑے رہنے دینا چاہئے کہ پانی تمام برتن میں سرایت کر جائے۔ اور اگر اس برتن میں کوئی ایسی نمی ہو جو پانی کے اندرونی حصوں تک پہنچنے میں مانع ہو تو پہلے اسے خشک کر لینا ضروری ہے اور پھر برتن کو کُر یا جاری پانی میں ڈال دینا چاہئے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 توضیح المسائل
 مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی مد ظلہ العالی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                 •┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•

🌐 سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
                 •┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
 Call: +989150693306
 Call: +989307831247
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
                         _📯 BLOGFA:_
            *_www.sirateaimamasoomin.blogfa.com_*
                 •┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•



تاريخ : شنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۴ | 6:38 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

📜 اولوالعزم انبیاء 📜

🌴 لفظ اولوالعزم قرآن میں ایک بار آیا هے.
الله تعالی نے فرمایا هے:
📖 اولوالعزم انبیاء کی طرح صبر کرو.


🍂 لسان العرب میں هے:
اولوالعزم انبیاء وه هیں جنھوں نے امر خدا کا مستحکم اراده کرلیا هے، جس کے بارے میں انھوں نے الله سے عهد کیا تھا.


🥀قرآن کریم میں عزم کبھی صبر کے معنی میں استعمال هوا هے اور کبھی وفائے عهد کے معنی میں آیا هے.
 
🍀 تفسیری کتابوں میں آیا هے کہ نئی شریعت اور جدید آئین کی وجه سے کیونکه انبیاء کو زیاده مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے اٹل اور مضبوط اراده کی ضرورت تھی اس لئے ان انبیاء کو اولوالعزم کہا گیا هے اور اگر کچھ لوگوں نے عزم کی تفسیر حکم اور شریعت کے معنی میں کی هے تو وه بھی اسی مناسبت سے هے.


🔹 کسی نبی کا اولوالعزم هونا اس کے صاحب شریعت هونے کی علامت هے۔ یعنی وه پیغمبر ایک نئی شریعت لیکر آیا هے اور اس کے هم عصر یا اس کے بعد انبیاء کو اسی کی شریعت کی تبلیغ کرنا هوگی (جب تک کہ کوئی نبی ایک اور نئی شریعت لیکر نہ آجائے).

🍃 الله نے بھی قرآن میں دین کی تشریع اور نبی کے ذریعہ اس کی تبلیغ کی طرف اشاره کیا هے. اور آخری دین لانے والے رسول اسلام کو مخاطب کر کے، باقی چار انبیاء کے اسماء ذکر کئے هیں:
آپ کے لئے اسی دین کی تشریع کی هے جس کی نوح کو سفارش کی تھی، اور جس کی آپ کو وحی کی ابراهیم، موسی اور عیسی کو بھی اسی کی سفارش کی تھی کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقه نه ڈالو.

🔷 روایات میں اولو العزم انبیاء:
اگرچه قرون اولیه کے عموما غیر شیعه بعض مفسرین نے اولوالعزم ان انبیاء کو مانا هے جو جهاد پر مامور تھے یا جنھوں نے اپنے مکاشفات کا اظهار کیا هے اور مصداق کی تعیین میں...
حضرت نوح، ابراهیم، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب یا ابراهیم، نوح، هود علیهم السلام اور محمد صلی الله علیه وآله کا نام لیا هے.

🌹 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے شرائط یوں بیان کئے گئے هیں:
1️⃣ عالمی دعوت کا علمبردار هونا، اس طرح کہ انس و جن دونوں کے شامل هو.
2️⃣ صاحب دین و شریعت هونا.
3️⃣ صاحب کتاب هونا.

🌴 اس لئے بعض انبیاء صاحب کتاب هونے کے باوجود اولوالعزم نہیں تھے؟

◾ امام رضا علیه السلام سے ایک شخص نے پوچھا کہ یه انبیاء کس طرح اولوالعزم هو گئے تو آپ نے فرمایا:
کیونکہ انھیں ایک خاص شریعت اور کتاب کے ساتھ مبعوث کیا گیا.

🥀لہذا صاحب کتاب هونا اولوالعزم کے شرائط میں سے ایک هے۔

🍀 لیکن یہاں دو اهم شرطیں اور بھی هیں.
1️⃣ تمام جن و انس کے لئے عالمی دعوت.
2️⃣ ایک مستقل اور نئی شریعت۔

🔹 یه خیال رکھنا چاهئے که نئی شریعت کا مطلب یه نہیں هے که گزشته انبیاء کی شریعت سے بالکل هی الگ هو اور اس سے بالکل هی میل نہ کھاتی هو بلکہ اس کا مطلب یه هے کہ زمانے کے تقاضوں کی بنیاد پر شریعتیں بھی بدلی جاتی تھیں اور یه ایک فطری بات هے۔

🌴 حضرت داؤد علیہ السلام اگرچه آسمانی کتاب والے تھے لیکن ان کی کتاب مستقل احکام اور شریعت پر مشتمل نہیں تھی جیسا که حضرت آدم، شیث، اور ادریس علیهم السلام بھی صاحب کتاب تھے لیکن اولوالعزم نہیں تھے.


🍃 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے اسماء کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا هے.

امام علی ابن الحسین علیهما السلام سے نقل هوا هے کہ اولوالعزم پانچ تھے:
1️⃣ حضرت نوح علیہ السلام
2️⃣ حضرت ابراهیم علیہ السلام
3️⃣ حضرت موسٰی علیہ السلام
4️⃣ حضرت عیسٰی علیہ السلام
5️⃣ حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلّم.


🌴 اسی طرح یه مضمون امام صادق علیہ السلام سے اور امام رضا علیہ السلام سے علل  بھی نقل هوا هے.

🍂 روایات میں حضرت نوح، ابراهیم علیہما السلام کی کتابوں کو صحف کہا گیا هے، اگرچه قرآن میں حضرت موسی علیه السلام کی کتاب کو بھی صحف کہا گیا هے، لیکن ان صحیفوں کے مجموعہ کو توریت کہتے هیں۔ حضرت عیسٰی علیه السلام کی کتاب انجیل اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلّم کی کتاب قرآن هے۔

🍀 البته یہ بات یقینی نہیں هے که آیا موجده اوستا بھی وهی کتاب هے جو زرتشت پر نازل هوئی اور اس کتاب کے اندر بعض جگہوں پر خود ان کے اقوال اور الله یا لوگوں سے ان کی گفتگو بھی بیان هوئی. (مزید وضاحت کے لئے اوستا کے قدیم اور اهم حصه یسنا کی طرف رجوع کریں فصل46، بند1و2۔
اگرچه بعض روایات کی بنیاد پر وه الهی پیغمبر اور صاحب شریعت کتاب تھے.
ـــــــــــــ✍🏻
👈 حواله:
📚 سورۃاحقاف:35
📚 لسان العرب، ج:12، ص:399
📚 شوری:43، طہ:115
📚 مصباح یزدی، اصول عقائد، ص:239
📚 السورۃ الشوری:13
📚 بحار، ج11، ص:35
📚 بحار، ج11، ص:32
📚 بحار، ج11، ص:34
📚 بحار، ج11، ص:35
📚 بحار، ج:11، ص:56
📚 المیزان، ج2، ص:142
📚 ترجمةالمیزان، ج2، ص:213
📚 بحار، ج11، ص:32
📚 بحار، ج11، ص:56
📚 الشرائع، ج1، ص:149، باب:101
📚 سفینۃ البحار، ج4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌐 سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بنده حقير: زاهد حسين محمدى
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📞 Call: 989150693306
📞 Call: 989307731247



تاريخ : شنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۴ | 5:33 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🌴 حضرت امام رضا علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 منصب: شیعوں کے آٹھویں امام

🌹 نام مبارک: علی بن موسی

🌹 کنیت: ابو الحسن (ثانی)

🍂 القاب: مشہور لقب رضا، صابر، زکی، ولی، وفی، سراج الله، نورالهدی، قرة عین المؤمنین، مکیدة الملحدین، کفو، الملک، کافی الخلق ہیں۔

🍃 تاریخ ولادت: 11 ذو القعدة الحرام، سنہ 148 ہجری۔

🌴 جائے ولادت: مدینہ

🌹 مدت امامت: 20 سال (183 تا 203ھ)

🌸 شہادت: 30 صفر 203 ہجری۔

🍀 سبب شہادت:  زہر سے مسموم

🌷 مدفن: مشہد مقدس

🌼 رہائش: مدینہ، مرو

🌹 والد ماجد: امام موسی کاظم

🍀 والدہ ماجدہ:   تکتم

🌼 ازواج: سبیکہ.

🌸 اولاد: امام محمد تقی علیہ السلام، محمد قانع، حسن، جعفر، ابراہیم، حسین، عائشہ.

🌹 عمر:  55 سال.


ادامه مطلب

تاريخ : جمعه ۱۳۹۹/۰۴/۱۳ | 11:33 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🌹السلام علیک یا أبا الحسن يا علي بن موسى الرضا المرتضى و رحمة الله و بركاته🌹

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا الْمُرْتَضَى الْإِمَامِ التَّقِيِّ النَّقِيِ‏ وَ حُجَّتِكَ عَلَى مَنْ فَوْقَ الْأَرْضِ وَ مَنْ تَحْتَ الثَّرَى الصِّدِّيقِ الشَّهِيدِ صَلاَةً كَثِيرَةً تَامَّةً زَاكِيَةً مُتَوَاصِلَةً مُتَوَاتِرَةً مُتَرَادِفَةً كَأَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ‏🌹

 سلطان العرب والعجم، والى خراسان، ضامن آھو، عالم آل محمد امام الرؤف حضرت علی بن موسى الرضا الرضا المرتضى کی ولادت باسعادت کے پر مسرت موقع پر تمام عالم اسلام،علمائے کرام،مراجع عظام بالأخص اپنے وقت کے امام ھادى برحق مولا حضرت امام مهدي عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، اور ولى امر مسلمین مقام معظم رهبری حضرت آیۃ اللہ العظمی آقای سید علی حسینی خامنہ ای، مد ظله العالى اور تمام مومنین ومؤمنات کی خدمت میں اپنے دل کی اتھاگہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــ
بنده حقير: زاهد حسين محمدى مشهدي



تاريخ : پنجشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۲ | 7:14 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

🌹سید منور عباس زیدی پھندیڑوی🌹

🌹مدحِ امامِ رضا علیہ السلام🌹

دردِ  دل  کی دوا  ھے  مشھد   میں
یعنی  ملتی  شفا  ھے  مشھد  میں

میں  نے  کہتے  سُنا  فرشتوں    کو
کتنی  پیاری   ہوا ھے  مشھد  میں

مانگ  کر  دیکھئے  کبھی  دل   سے
پوری  ہوتی  دعا  ھے  مشھد  میں 

چشمِ نم سے جو دیکھا صحنِ  شفا
یوں  لگا   کربلا   ھے   مشھد  میں

خُلد    والے    قیام     کرتے     ہیں
خاص رب کی عطا ھے مشھد میں

ھے   وجودِ    امام    روکے     ہُوے
اب  نہ کہنا وٙبا ھے   مشھد    میں

لو   فرشتے    زمیں    پہ   آنے  لگے
جشنِ   مولا   بپا  ھے  مشھد  میں

تیرے   در   سے  حیات ملتی    ھے
خود  پریشاں  قضا ھے مشھد میں

بیٹھو صحنِ  حرم  میں دل نے  کہا
کیا  معطّر  فضا   ھے   مشھد  میں

اس   لئے   کہتے  ہیں  امامِ   رئوف 
بخشی  جاتی  خطا ھے مشھد میں

بے   وفا  جو  ھیں  وہ چلے  جائیں
 جایِ   اھلِ   وفا   ھے  مشھد میں

ہم  منور   کہیں   بھی  ہوں   لیکن
دل  ہمارا   سدا  ھے    مشھد  میں

کلام
🌹سید منور عباس زیدی پھندیڑوی🌹
🌹🌹التماسِ  دعا🌹🌹



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۱ | 9:29 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |

سید منور عباس زیدی پھندیڑوی☘️☘️

🌴🌴مدحِ شاہِ خراسان🌴🌴

دو جہاں  آپ پہ قربان میرے  مولا رضاء 
ہو  بیاں آپ کی کیا شان مرے مولا رضاء

نام  مولا  تِرا   ہونٹوں  پہ  ابھی آیا تھا
مشکلیں  ہو  گئیں آسان  میرے مولا رضاء

مولا  مجھ  پر  بھی ذرا نظرِ  عنایت کردیں
ھے  بہت  قلب پریشان میرے مولا رضاء

بادشاہوں  سے بھی اعلی ہیں مراتِب اُنکے
ہیں  جو  در کے  تِرے  دربان میرے مولا رضاء

مجھکو دنیا کے طبیبوں سے بھلا کیا مطلب
ھے مِرے  درد  کا  درمان میرے مولا رضاء

سب کو ہی  دیکھا تِرے در پہ گدائی کرتے
وہ  گداکر  ہو  یا سلطان میرے مولا رضاء

جانتے ہو کے گنہگار  ہوں  پھر بھی مجھکو
آپ  نے کر  لیا  مہمان  میرے مولا رضاء

جس کو لینی ھے  شفا آئے خراساں آئے
کہتے ہیں شاہِ  خراسان میرے مولا رضاء

یوسفِ زہراء  سوئے مشھد و قم جاتا ھے
ہوگا  اک روز  یہ اعلان  میرے  مولا رضاء

کر چہ مشکل تھا بہت آپ کی مدحت کا سفر
آپ  نے کر  دیا آسان  میرے  مولا رضاء

خواہشِ  دل  ھے  منور کے نجف پھر جائے
پورا ہو جائے یہ ارمان میرے مولا رضاء

☘️☘️نتیجہء فکر
سید منور عباس زیدی پھندیڑوی☘️☘️
 



تاريخ : چهارشنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۱ | 9:28 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |