شیطان بزرگ آمریکا

شیطان بزرگ آمریکا

❇️ شیطانی سلطنت کے سپاہی❇️

✍ پورخردمند

⚫️ فروری 1972ء میں امریکی فوج نے ویتنام کے گاؤں باک لیو پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے (نگوین ٹی ٹو) کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کیا اور اس کا گلا بھی کاٹ دیا۔ وہ اپنی شہادت سے چند لمحے قبل آخری مرتبہ اپنے دس ماہ کے شیر خوار بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ یہ تصویر اسی دل سوز لمحے میں لی گئی، جب موت اس کے سر پر سایہ فگن تھی۔

✅ امریکہ آج بھی وہی امریکہ ہے جو کل تھا، اور اس کی فوج بھی وہی فوج ہے؛ البتہ آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ جدید، زیادہ سنگ دل، زیادہ خون آشام اور زیادہ درندہ صفت ہو چکی ہے۔

✅ اس حقیقت پر یقین کرنا دشوار نہیں۔ دوسری مرتبہ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی تقریر پر ایک نگاہ ڈالنا ہی کافی ہے، جہاں اس سے یہ الفاظ منسوب کیے جاتے ہیں:

ہم نے ایسا عالمی نظام قائم کیا ہے جس میں اقتدار دولت اور ذرائع ابلاغ کے ہاتھوں میں ہے؛ ایسا نظام جس میں خدا اور انسانیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس نظام میں انسانی اور اخلاقی اقدار کے بغیر بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ آج دنیا بھر میں جو ہولناک انتشار دکھائی دے رہا ہ

👈🏻 وہ ایک نئے عہد کی پیدائش ہے، مگر اس کی قیمت بے شمار انسانوں کا خون ہے۔ ہم اس عالمی نظام کا حصہ ہونے کے باعث اس صورتِ حال پر افسوس نہیں کرتے، کیونکہ ہم اپنے احساسات اور جذبات کھو چکے ہیں۔"

✅ اگر امریکی فوج کے جنگی جرائم کی کوئی زندہ دستاویز تلاش کرنی ہو تو یہ تصویر اپنے آپ میں ایک ناقابلِ تردید شہادت ہے۔

✅ ایک ماں، جو موت کی دہلیز پر کھڑی ہے، پھر بھی اپنے دل و دماغ کا سکون برقرار رکھتی ہے تاکہ اس کا معصوم شیر خوار بچہ امن و اطمینان کے ساتھ اپنی ماں کے سینے سے زندگی اور امید کی آخری گھونٹ پی لے۔

✅ یہ ماں شاید اس اعتبار سے خوش نصیب تھی کہ دنیا سے رخصت ہو گئی؛ اسے یہ اندوہناک منظر نہ دیکھنا پڑا کہ اس کی وفات کے تقریباً نصف صدی بعد شام میں داعش کے تسلط کے زمانے میں بعض مائیں دشمن کی انتہا درجے کی سفاکی اور اپنی بے بسی کے باعث اپنے بچوں کا بھنا ہوا گوشت کھانے پر مجبور ہوئیں۔

✅ افسوس ہے ان لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ چونکہ امریکہ سے معاہدہ ہو گیا ہے، اس لیے اب مرگ بر امریکہ کا نعرہ نہیں لگانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آج یہ بات کہتے ہیں، وہ ابتدا ہی سے اس نعرے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔



تاريخ : چهارشنبه ۱۴۰۵/۰۴/۱۰ | 3:21 AM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |
.: Weblog Themes By Bia2skin :.