📜 اولوالعزم انبیاء 📜
🌴 لفظ اولوالعزم قرآن میں ایک بار آیا هے.
الله تعالی نے فرمایا هے:
📖 اولوالعزم انبیاء کی طرح صبر کرو.
🍂 لسان العرب میں هے:
اولوالعزم انبیاء وه هیں جنھوں نے امر خدا کا مستحکم اراده کرلیا هے، جس کے بارے میں انھوں نے الله سے عهد کیا تھا.
🥀قرآن کریم میں عزم کبھی صبر کے معنی میں استعمال هوا هے اور کبھی وفائے عهد کے معنی میں آیا هے.
🍀 تفسیری کتابوں میں آیا هے کہ نئی شریعت اور جدید آئین کی وجه سے کیونکه انبیاء کو زیاده مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے اٹل اور مضبوط اراده کی ضرورت تھی اس لئے ان انبیاء کو اولوالعزم کہا گیا هے اور اگر کچھ لوگوں نے عزم کی تفسیر حکم اور شریعت کے معنی میں کی هے تو وه بھی اسی مناسبت سے هے.
🔹 کسی نبی کا اولوالعزم هونا اس کے صاحب شریعت هونے کی علامت هے۔ یعنی وه پیغمبر ایک نئی شریعت لیکر آیا هے اور اس کے هم عصر یا اس کے بعد انبیاء کو اسی کی شریعت کی تبلیغ کرنا هوگی (جب تک کہ کوئی نبی ایک اور نئی شریعت لیکر نہ آجائے).
🍃 الله نے بھی قرآن میں دین کی تشریع اور نبی کے ذریعہ اس کی تبلیغ کی طرف اشاره کیا هے. اور آخری دین لانے والے رسول اسلام کو مخاطب کر کے، باقی چار انبیاء کے اسماء ذکر کئے هیں:
آپ کے لئے اسی دین کی تشریع کی هے جس کی نوح کو سفارش کی تھی، اور جس کی آپ کو وحی کی ابراهیم، موسی اور عیسی کو بھی اسی کی سفارش کی تھی کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقه نه ڈالو.
🔷 روایات میں اولو العزم انبیاء:
اگرچه قرون اولیه کے عموما غیر شیعه بعض مفسرین نے اولوالعزم ان انبیاء کو مانا هے جو جهاد پر مامور تھے یا جنھوں نے اپنے مکاشفات کا اظهار کیا هے اور مصداق کی تعیین میں...
حضرت نوح، ابراهیم، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب یا ابراهیم، نوح، هود علیهم السلام اور محمد صلی الله علیه وآله کا نام لیا هے.
🌹 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے شرائط یوں بیان کئے گئے هیں:
1️⃣ عالمی دعوت کا علمبردار هونا، اس طرح کہ انس و جن دونوں کے شامل هو.
2️⃣ صاحب دین و شریعت هونا.
3️⃣ صاحب کتاب هونا.
🌴 اس لئے بعض انبیاء صاحب کتاب هونے کے باوجود اولوالعزم نہیں تھے؟
◾ امام رضا علیه السلام سے ایک شخص نے پوچھا کہ یه انبیاء کس طرح اولوالعزم هو گئے تو آپ نے فرمایا:
کیونکہ انھیں ایک خاص شریعت اور کتاب کے ساتھ مبعوث کیا گیا.
🥀لہذا صاحب کتاب هونا اولوالعزم کے شرائط میں سے ایک هے۔
🍀 لیکن یہاں دو اهم شرطیں اور بھی هیں.
1️⃣ تمام جن و انس کے لئے عالمی دعوت.
2️⃣ ایک مستقل اور نئی شریعت۔
🔹 یه خیال رکھنا چاهئے که نئی شریعت کا مطلب یه نہیں هے که گزشته انبیاء کی شریعت سے بالکل هی الگ هو اور اس سے بالکل هی میل نہ کھاتی هو بلکہ اس کا مطلب یه هے کہ زمانے کے تقاضوں کی بنیاد پر شریعتیں بھی بدلی جاتی تھیں اور یه ایک فطری بات هے۔
🌴 حضرت داؤد علیہ السلام اگرچه آسمانی کتاب والے تھے لیکن ان کی کتاب مستقل احکام اور شریعت پر مشتمل نہیں تھی جیسا که حضرت آدم، شیث، اور ادریس علیهم السلام بھی صاحب کتاب تھے لیکن اولوالعزم نہیں تھے.
🍃 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے اسماء کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا هے.
◾ امام علی ابن الحسین علیهما السلام سے نقل هوا هے کہ اولوالعزم پانچ تھے:
1️⃣ حضرت نوح علیہ السلام
2️⃣ حضرت ابراهیم علیہ السلام
3️⃣ حضرت موسٰی علیہ السلام
4️⃣ حضرت عیسٰی علیہ السلام
5️⃣ حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلّم.
🌴 اسی طرح یه مضمون امام صادق علیہ السلام سے اور امام رضا علیہ السلام سے علل بھی نقل هوا هے.
🍂 روایات میں حضرت نوح، ابراهیم علیہما السلام کی کتابوں کو صحف کہا گیا هے، اگرچه قرآن میں حضرت موسی علیه السلام کی کتاب کو بھی صحف کہا گیا هے، لیکن ان صحیفوں کے مجموعہ کو توریت کہتے هیں۔ حضرت عیسٰی علیه السلام کی کتاب انجیل اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلّم کی کتاب قرآن هے۔
🍀 البته یہ بات یقینی نہیں هے که آیا موجده اوستا بھی وهی کتاب هے جو زرتشت پر نازل هوئی اور اس کتاب کے اندر بعض جگہوں پر خود ان کے اقوال اور الله یا لوگوں سے ان کی گفتگو بھی بیان هوئی. (مزید وضاحت کے لئے اوستا کے قدیم اور اهم حصه یسنا کی طرف رجوع کریں فصل46، بند1و2۔
اگرچه بعض روایات کی بنیاد پر وه الهی پیغمبر اور صاحب شریعت کتاب تھے.
ـــــــــــــ✍🏻
👈 حواله:
📚 سورۃاحقاف:35
📚 لسان العرب، ج:12، ص:399
📚 شوری:43، طہ:115
📚 مصباح یزدی، اصول عقائد، ص:239
📚 السورۃ الشوری:13
📚 بحار، ج11، ص:35
📚 بحار، ج11، ص:32
📚 بحار، ج11، ص:34
📚 بحار، ج11، ص:35
📚 بحار، ج:11، ص:56
📚 المیزان، ج2، ص:142
📚 ترجمةالمیزان، ج2، ص:213
📚 بحار، ج11، ص:32
📚 بحار، ج11، ص:56
📚 الشرائع، ج1، ص:149، باب:101
📚 سفینۃ البحار، ج4
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌐 سيرة الأئمة المعصومين عليهم السلام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بنده حقير: زاهد حسين محمدى
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📞 Call: 989150693306
📞 Call: 989307731247
تاريخ : شنبه ۱۳۹۹/۰۴/۱۴ | 5:33 PM | نویسنده : زاھد حسین محمدی |